…گھر تو آخر


 ریت  کا گھر پانی بہا کر لے جائے تو پیچھے نشان چھوڑ جاتا ہے،

تاش کے پتوں سے بنا گھر، ہوا ڈھا دے تو بنتا ہے،

شاخوں سے بنے گھونسلے کو اگر آگ لگ جائے تو دکھ ہوتا ہے،

مگر دل میں بسائے گھر پر جب سوچ کا وار چلتا ہے تو اسکی زد میں آنے والے کو اس وار کا نہ احساس ہوتا ہے اور نہ یقین.


یہ گھربھی كئ بار بنا اور جلا ہے، ہر امید پختہ اور ہر وار یقینی.

تو  کیا  ہوا گر یہ جسم ان واروں سے زخمی ہے، گھر تو آخراپنا ہے اوراس میں  بسنے والے بھی اپنے!

Advertisements

4 thoughts on “…گھر تو آخر

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s